Maarkhoor
Snake Eater
تنہائی حد سے گزر جائے کہ خود سے گفتگو نہ ہو
دل بہلانے کو کوئی آئے، کوئی روبرو ہو
رات خاموش ہو، آنکھوں میں نمی ٹھہری رہے
کوئی اپنا سا لگے، اور دل کو کچھ سکون ہو
ہم نے چپ رہ کے بھی کتنی صدائیں دی ہیں
کوئی سمجھے تو سہی، درد ہمارا کیا ہو
زندگی یوں ہی گزرتی ہے کسی کے بن مگر
دل یہی چاہتا ہے، کوئی اپنا سا روبرو ہو
دل بہلانے کو کوئی آئے، کوئی روبرو ہو
رات خاموش ہو، آنکھوں میں نمی ٹھہری رہے
کوئی اپنا سا لگے، اور دل کو کچھ سکون ہو
ہم نے چپ رہ کے بھی کتنی صدائیں دی ہیں
کوئی سمجھے تو سہی، درد ہمارا کیا ہو
زندگی یوں ہی گزرتی ہے کسی کے بن مگر
دل یہی چاہتا ہے، کوئی اپنا سا روبرو ہو
