Nostalgic

1778353195610.png

انیس سو ساٹھ اور ستر کی دہائی کا کراچی صرف ایک شہر نہیں تھا، ایک چلتا پھرتا نظم تھا۔ اُس زمانے میں دفتر جانا، فیکٹری پہنچنا، اسکول جانا، بس پکڑنا، ریڈیو سننا، شام کو چائے پینا، سب چیزوں کے اپنے اپنے ضابطے اور تہذیبیں تھیں۔ انہی تہذیبوں میں ایک تہذیب “ٹفن کیریئر” کی بھی تھی۔ یہ صرف کھانا لے جانے کا برتن نہیں تھا، یہ گھر کی محبت، بیوی کے ہاتھ کا ذائقہ، ماں کی فکر، اور خاندان کے نظام کی ایک علامت تھا۔
کراچی کے صنعتی علاقوں — سائٹ، لانڈھی، کورنگی، فیڈرل بی ایریا کی فیکٹریاں، برنس روڈ اور آئی آئی چندریگر روڈ کے دفاتر، بندرگاہ کے علاقے، ریلوے ورکشاپس، شپ یارڈ، پی آئی اے کے دفاتر، بینک، انشورنس کمپنیاں — ہر جگہ دوپہر کے وقت ایک ہی منظر نظر آتا تھا۔ کہیں کسی میز کے نیچے چمکتا ہوا اسٹیل کا ٹفن رکھا ہے، کہیں کسی کلرک نے اخبار بچھا کر ٹفن کھولا ہوا ہے، کہیں چار دوست مل کر سالن بدل بدل کر کھا رہے ہیں، اور کہیں کسی مزدور نے مشین بند کر کے ایک کونے میں بیٹھ کر روٹی نکالی ہے۔
یہ Habib Metal Industries جیسے اداروں کے بنائے ہوئے ٹفن کیریئر اُس دور میں بڑے فخر سے خریدے جاتے تھے۔ اسٹین لیس اسٹیل اُس زمانے میں ایک خاص چیز سمجھی جاتی تھی۔ اشتہاروں میں “نفیس”، “پائیدار”، “جدید ڈیزائن”، “گرمی محفوظ رکھنے والا” جیسے الفاظ اسی لیے لکھے جاتے تھے کہ لوگ یہ چیز خرید کر برسوں استعمال کرتے تھے۔ ایک ٹفن کیریئر کبھی کبھی باپ سے بیٹے تک چل جاتا تھا۔
لیکن اصل دلچسپ دنیا اُس نیٹ ورک کی تھی جسے کراچی والے خاموشی سے جانتے تھے۔ یہ “مکرانی” کہلانے والے لوگ تھے۔ بلوچستان کے مکران کے علاقوں سے آئے ہوئے یہ محنت کش کراچی کی روزمرہ زندگی کا اہم حصہ تھے۔ جس طرح دودھ والے، اخبار والے، یا لانڈری والے ہوتے تھے، اسی طرح ٹفن پہنچانے والے بھی ایک باقاعدہ پیشہ تھا۔ صبح سویرے یہ لوگ سائیکلوں پر نکلتے۔ کسی کے سائیکل کے دونوں طرف لوہے کے بڑے فریم لگے ہوتے جن میں درجنوں ٹفن کیریئر جھول رہے ہوتے۔ کہیں گھنٹی بجتی، کہیں کسی گھر کی خاتون بالکونی سے آواز دیتی:
“بھائی ذرا رکنا، آج سالن گرم ہے سیدھا رکھنا!”
پھر یہ مکرانی نوجوان یا ادھیڑ عمر مرد پورے کراچی میں گھروں سے ٹفن جمع کرتے۔ ناظم آباد سے صدر، لیاقت آباد سے سائٹ، محمودآباد سے کیماڑی، ملیر سے لانڈھی، اور فیڈرل بی ایریا سے آئی آئی چندریگر روڈ تک ان کی سائیکلیں چلتی رہتیں۔ حیرت انگیز بات یہ تھی کہ بغیر کسی موبائل فون، بغیر کسی کمپیوٹر، بغیر کسی ایپ کے، یہ نظام بڑی حد تک درست چلتا تھا۔ کون سا ٹفن کس دفتر میں دینا ہے، کس فیکٹری کے گیٹ پر کس وقت پہنچنا ہے، کس صاحب کا کھانا اوپر تیسری منزل پر دینا ہے — سب ان کے ذہن میں محفوظ ہوتا تھا۔
 
1780608202972.png

This jar for achaar . called Martaban..
 
1780608534525.png


60 k Ashrey ma pan k shop or hotels me cold drink k Leye ye ice box use hote the or us waqat pakola co k coldrink k mukhtlaf veraytes Howa krte the
 

Users who are viewing this thread

Country Watch Latest

Latest Posts

Back
Top