اردو کا انتہائی عامیانہ لفظ *"جگاڑ"* سرکاری طور پر انگریزی کاحصہ بن گیا، آکسفورڈ ڈکشنری میں شامل ۔۔ !!!
۔
انگریزی کی مستند و معتبر لغت آکسفورڈ ڈکشنری نے اردو زبان کے ایک انتہائی عامیانہ لفظ *“جگاڑ”* اپنا لیا ہے ۔۔ !!! جو ممکن ہو آئندہ جزائر برطانیہ کی گلیوں میں بھی بولا اور سنا جائے ۔۔ !!! اس لیے وہ اہلِ علم اور اہلِ اردو افراد جو اس سے عمومی طور پر استعمال کرتے ہوئے احتراز برتتے تھے اب سوکالڈ دیسی انگلش طبقے کے سامنے اس کا احترام کریں کیونکہ اب یہ لفظ عامیانہ نہیں رہا بلکہ انگریزی لغت میں جگہ پا کر معتبر ہو گیا ہے


۔
ڈکشنری میں اس کے معنی کچھ یوں درج کئے گئے ہیں۰
According to the dictionary, noun “Jugaad” means a flexible approach to solve a problem, that uses limited resources in an innovative way.
”کسی مسئلے کے فوری اور آسان حل کا ایسا تخلیقی طریقہ جس میں وقت اور وسائل دونوں کم سے کم خرچ ہوں“۔
دنیا کی تمام زبانوں کے الفاظ عام انسان ہی تخلیق کرتے ہیں، ایسے تمام الفاظ جن میں قبولیت کی گنجائش ہوتی ہے اور جسے عوام آسانی سے بولنے لگتے ہیں اور پھر بالآخر وہ زبان اور پھر لغت کا حصہ بن جاتے ہیں، لفظ *“جگاڑ “* کبھی کسی دیسی انگریز نے برطانیہ میں خوب استعمال کیا ہوگا ۰۰ یہاں تک کہ آکسفورڈ ڈکشنری بھی اسے قبول کرلیا ۔ اب جگاڑ مصدر ہے اور اس سے "جگاڑو" مشتق ہے تو یہ بھی انگریزی کا حصہ ہونا چاہیے ناں ۔۔ ویسے انگریز قوم بہادر ہو نہ ہو لیکن تاریخی طور پر "جگاڑو" ضرور ہے !!! دیکھیں ناں تجارت کرنے آئے تھے اور تیموریوں سے "جگاڑ" لگا کر تجارتی کوٹھیاں حاصل کیں اور پھر ایسٹ انڈیا کمپنی سے جگاڑ لگا کر خود کو اتنا مستحکم کیا کہ یہاں آئی دیگر یورپی اقوام ولندیزی، پرتگیزی اور فرانسیسی کوئی بھی ٹک نہ سکے ۔۔ اور بے چارے فرانسیسی جو فرنچ یا فرنچی کہلاتے تھے وہ فرنجی سے فرنگی ہوگئے لیکن یہ انگریزوں کی "جگاڑ" ہی تھی آج پاک و ہند میں لفظ فرنگی فرانسیسیوں کے لیے نہیں بلکہ انگریزوں کے لیے کہا جاتا ہے ۔۔!!
پھر *"جگاڑ"* اتنی چلائی کہ قریب کی ریاستوں پہ اپنا اثر و رسوخ چلا کر آہستہ آہستہ قابض مالک بنتے گئے ۔اور یہ سب کے سب جگاڑ ہی کے کرشمے ہیں ۔۔ !!! ویسے بھی اب ہر جگہ *"جگاڑ"* ہی چلتی ہے اسی لیے "جگاڑو" بھی ہر جگہ پائے جاتے ہیں، سرکار ہو یا اخبار ہر جگہ جگاڑ ہی جگاڑ، سرکار کی جگاڑ پس پردہ دیوار جبکہ اخبار کی جگاڑ سرکاری اشتہار ۔۔۔ !!! چھوڑیں بلا وجہ بے حد سنجیدہ باتیں اور تحریر طویل ہو رہی ہے جبکہ بتانا تو یہی مقصود تھا کہ اب لفظ *جگاڑ* کا احترام کریں کیونکہ اردو کے اس کم ستائشی لفظ کو انگریزی نے گود لے لیا ہے ۔۔ !!!
نقل و ترسیل: سلیم