Goenitz
Elite Member
مارچ 1961 کی یہ تصویر محض ایک سرکاری اعزازی تقریب کی تصویر نہیں، بلکہ پاکستان کی ابتدائی سیاسی، تہذیبی اور آئینی تاریخ کا ایک گہرا اور تلخ استعارہ ہے۔ اس تصویر میں صدر ایوب خان، شیرِ بنگال اے۔کے۔ فضل الحق کو “نشانِ پاکستان” عطا کر رہے ہیں۔ وہی فضل الحق جنہوں نے 23 مارچ 1940 کو لاہور کے منٹو پارک میں وہ تاریخی قرارداد پیش کی تھی جسے بعد میں قراردادِ پاکستان کہا گیا۔ یہ حقیقت بھی تاریخ کے عجیب ترین تضادات میں سے ایک ہے کہ جس شخص نے قیامِ پاکستان کی سب سے اہم قرارداد پیش کی، وہی چند برس بعد مسلم لیگ کی مرکزی قیادت سے اختلافات کے باعث جماعت سے الگ کر دیے گئے۔
فضل الحق صرف ایک سیاستدان نہیں تھے بلکہ بنگال کے عوامی شعور کی آواز تھے۔ اسی لیے انہیں “شیرِ بنگال” کہا جاتا تھا۔ ان کی سیاست جاگیردارانہ اشرافیہ کی سیاست نہیں بلکہ عام آدمی، کسان اور بنگال کے محروم عوام کی سیاست تھی۔ قائداعظم سے اختلافات کے بعد انہیں مسلم لیگ سے نکالا گیا، مگر مشرقی بنگال میں ان کی عوامی مقبولیت برقرار رہی۔ 1954 کے مشرقی پاکستان کے انتخابات میں انہوں نے حسین شہید سہروردی اور مولانا بھاشانی کے ساتھ “متحدہ محاذ” قائم کیا اور مسلم لیگ کو ایسی عبرتناک شکست دی کہ مشرقی پاکستان میں مسلم لیگ تقریباً صفحۂ سیاست سے مٹ گئی۔ متحدہ محاذ نے 309 میں سے 223 نشستیں حاصل کیں اور فضل الحق وزیرِ اعلیٰ بنے، مگر جلد ہی اسکندر مرزا اور مرکزی اسٹیبلشمنٹ نے ان کی حکومت برطرف کر دی۔ گویا جس عوامی مینڈیٹ نے مشرقی پاکستان کی آواز بننے کی کوشش کی، اسے طاقت کے ایوانوں نے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔
تصویر میں دوسری اہم شخصیت مولوی تمیز الدین خان ہیں، جو پاکستان کی دستور ساز اسمبلی کے اسپیکر تھے۔ وہ ان چند لوگوں میں سے تھے جنہوں نے پاکستان میں آئینی بالادستی کی حقیقی جنگ لڑی۔ جب 1954 میں گورنر جنرل غلام محمد نے دستور ساز اسمبلی توڑ دی تو مولوی تمیز الدین خان نے اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کیا۔ سندھ چیف کورٹ نے ان کے حق میں فیصلہ دیا، مگر بعد میں فیڈرل کورٹ نے گورنر جنرل کے اقدام کو جائز قرار دے دیا۔ یہی وہ مقدمہ تھا جس نے پاکستان میں بعد کی آمریتوں اور “نظریۂ ضرورت” کی بنیاد رکھی۔ روایت ہے کہ مولوی تمیز الدین خان گرفتاری یا سرکاری رکاوٹوں سے بچنے کے لیے برقع پہن کر عدالت پہنچے تھے۔ یہ منظر دراصل اس دور کے خوف، دباؤ اور آئینی بے بسی کی علامت تھا۔ مگر تاریخ کا المیہ دیکھیے کہ یہی مولوی تمیز الدین خان بعد میں ایوب خان کے 1962 کے آئین کے تحت بننے والی قومی اسمبلی کے اسپیکر بن گئے۔ گویا وہ شخص جس نے آئین اور جمہوریت کے لیے لڑائی لڑی، آخرکار اسی فوجی نظام کا حصہ بننے پر مجبور ہو گیا جس نے جمہوری تسلسل کو توڑا تھا۔
تیسری اہم شخصیت ابوالہاشم ہیں، جو بنگال مسلم لیگ کے نہایت اہم فکری رہنما، منتظم اور نظریہ ساز تھے۔ انہوں نے بنگال میں مسلم لیگ کو عوامی سطح پر منظم کرنے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ وہ متحدہ بنگال کے تصور سے بھی وابستہ رہے اور تقسیم کے بعد بھی مشرقی پاکستان کی سیاست میں ایک فکری اور نظریاتی آواز کے طور پر زندہ رہے۔ بعد کے برسوں میں وہ اقتدار کے مرکزی دھارے سے دور ہوتے گئے، مگر ان کی فکری اہمیت برقرار رہی۔ بنگلہ دیش کے قیام کے بعد بھی وہ زندہ رہے اور 1974 میں ان کا انتقال ہوا۔ ان کی پوری زندگی اس بات کی علامت رہی کہ پاکستان بنانے والی بنگالی قیادت کو رفتہ رفتہ اقتدار کے اصل مراکز سے الگ کر دیا گیا۔
اس تصویر کا ایک نہایت گہرا تہذیبی اور نفسیاتی پہلو ان شخصیات کے لباس سے بھی نمایاں ہوتا ہے۔ ذرا غور کیجیے، تصویر میں موجود تینوں مشرقی پاکستانی رہنما — شیرِ بنگال اے۔کے۔ فضل الحق، مولوی تمیز الدین خان اور پس منظر میں موجود ابوالہاشم — سب کے لباس میں اپنی تہذیب، اپنی مٹی اور اپنی مقامی شناخت کی جھلک موجود ہے۔ کسی نے شیروانی پہن رکھی ہے، کسی نے کرتا اور ٹوپی، اور کسی کے لباس میں بنگال کی سادگی اور مشرقی روایت کی خوشبو محسوس ہوتی ہے۔ ان کے انداز میں ایک عوامی سیاستدان کا وقار ہے، جیسے یہ لوگ ابھی تک اس دنیا سے تعلق رکھتے ہوں جہاں سیاست کا مطلب صرف اقتدار نہیں بلکہ تہذیبی نمائندگی بھی تھا۔
اور پھر سامنے صدر ایوب خان کو دیکھیے۔ مکمل مغربی سوٹ، ٹائی، وہی نوآبادیاتی اقتدار کا انداز، وہی برطانوی فوجی روایت کا تسلسل۔ گویا اقتدار کا مرکز ایک دوسری دنیا سے تعلق رکھتا ہو۔ ایک طرف وہ لوگ ہیں جنہوں نے قراردادِ پاکستان پیش کی، عوامی تحریکیں چلائیں، آئین کے لیے جدوجہد کی، اور دوسری طرف وہ شخص ہے جو فوجی اسٹیبلشمنٹ اور نوآبادیاتی بیوروکریسی کے تسلسل کی علامت بن کر کھڑا ہے۔
اسی تضاد پر پنڈت جواہر لال نہرو نے بھی طنز کیا تھا۔ پاکستان کے دورے کے دوران جب انہوں نے پاکستانی حکمران اشرافیہ کو مغربی سوٹ، انگریزی طرزِ زندگی اور نوآبادیاتی انداز میں دیکھا تو طنزیہ تبصرہ کیا کہ “انگریز تو چلے گئے مگر ان کے اصل جانشین یہ لوگ رہ گئے ہیں۔” دلچسپ بات یہ ہے کہ نہرو خود مغربی تعلیم یافتہ تھے، مگر وہ اکثر اچکن یا شیروانی پہنتے تھے تاکہ نئی ہندوستانی ریاست کی ایک قومی اور مقامی شناخت قائم کی جا سکے۔ پاکستان میں اس کے برعکس اقتدار کی علامت جلد ہی مغربی سوٹ، فوجی وردی اور انگریزی کلچر بن گئی۔
یوں یہ تصویر صرف ایک اعزازی تقریب کی تصویر نہیں رہتی بلکہ دو مختلف پاکستانوں کی علامت بن جاتی ہے۔ ایک وہ پاکستان جو فضل الحق، سہروردی، مولوی تمیز الدین خان اور ابوالہاشم جیسے عوامی رہنماؤں کے ذہن میں تھا، جہاں مقامی ثقافت، زبان، عوامی سیاست اور وفاقی توازن کی جگہ تھی۔ اور دوسرا وہ پاکستان جو رفتہ رفتہ فوجی اشرافیہ، سول بیوروکریسی اور نوآبادیاتی طرز کے حکمران طبقے کے قبضے میں چلا گیا، جہاں اقتدار کی زبان بھی مختلف تھی، لباس بھی مختلف تھا اور ذہن بھی مختلف۔
یہ تصویر ایک اور تلخ سوال بھی اٹھاتی ہے۔ مشرقی پاکستان کے وہ رہنما جنہوں نے پاکستان بنانے میں سب سے زیادہ کردار ادا کیا، آخر انہی کو بعد میں کیوں دیوار سے لگایا گیا؟ فضل الحق کی منتخب حکومت برطرف ہوئی، تمیز الدین خان کی آئینی جدوجہد کچل دی گئی، ابوالہاشم جیسے نظریاتی رہنما حاشیے پر ڈال دیے گئے۔ پھر وقت نے انہیں اسی ریاستی ڈھانچے کے سامنے لا کھڑا کیا جہاں کبھی وہ عوامی طاقت کی علامت تھے اور اب فوجی اقتدار کے زیرِ سایہ کھڑے تھے۔ شاید یہی وہ فاصلے تھے جو بعد میں صرف سیاست میں نہیں بلکہ دلوں میں بھی پیدا ہوئے، اور جن کی آخری المناک منزل 1971 میں سامنے آئی۔






