پچھلے دنوں ہارورڈ یونیورسٹی میں مختلف ممالک کے طلباء کو گھوڑے پر آرٹیکل لکھنے کو کہا گیا تو ہر طالب علم نے اس کا الگ موضوع رکھا ۔
فرانسیسی طالب علم کا موضوع
*گھوڑوں کی جنسی زندگی*
انگریز کا *گھوڑوں کا شکار*
کینیڈین طالب علم کا *صحت مند گھوڑوں کی افزائش نسل کے جدید طریقے*
امریکی کا *گھوڑوں میں گدھا پن*
بھارتی طالب علم کا مضمون
*گھوڑوں کو رام کرنے کے طریقے*
جبکہ پاکستانی طالب علم کا موضوع *گھوڑے اور تحریک عدم اعتماد*
ان فلیمگ نے کہا ہے *گھوڑا وہ شے ہے جو دونوں سروں سے خطرناک اور درمیان سے بے آرام ہوتا ہے* ۔
ویسے یہ واحد جانور ہے جو جوتے بھی پہنتا ہے ، ہر ماہ اس کے نئے نعلین لگوانے پڑتے ہیں ۔
*گھوڑا نہ ہو تو کوئی پنجابی فلم نہیں بن سکتی* کیونکہ جب تک سلطان راہی کو گھوڑے پر نہ بٹھاو ، وہ ڈائیلاگ نہیں بول سکتا ۔
گھوڑوں کو ہم نے وہ مقام دیا ہے جو شاید کبھی گھوڑوں نے بھی ہمیں نہ دیا ہو ۔
*امریکہ کی حکومت بدلنے میں جو رول "گدھے" کا ہے ، وہی ہمارے ہاں گھوڑے کا ہے* سو جو بھی تحریک چلتی ہے، وہ انہیں اعتماد میں لے کر چلتی ہے ۔
This site uses cookies to help personalise content, tailor your experience and to keep you logged in if you register.
By continuing to use this site, you are consenting to our use of cookies.