
کالی مرچوں کا قصہ۔
سعودی عرب کے شہر ریاض میں کچھ مصری مزدور اور ایک انڈین شخص ایک ہی فلیٹ میں رہتے تھے۔
مصری بھائی روز مل جل کر کھانا پکاتے اور ساتھ ہی مزے سے کھاتے، جبکہ انڈین اپنے الگ ہی پکوان تیار کرتا تھا۔
کچھ دن بعد انڈین شخص چھٹی پر انڈیا چلا گیا۔ اِدھر مصریوں کو کھانے میں مصالحہ ڈالنے کی ضرورت پڑی۔ بازار جانا لمبا کام لگا، تو انہوں نے سوچا: “چلو انڈین کے مصالحوں پر ہی ہاتھ صاف کر لیتے ہیں!”
چند ماہ بعد انڈین واپس آیا۔ سب سے ملا، پھر سیدھا اپنے کمرے میں چلا گیا۔ کچھ دیر بعد وہ ہکا بکا اور روتا ہوا باہر نکلا۔
مصری گھبرا گئے، پوچھا: “بھائی کیا ہوا؟”
انڈین آنسو صاف کرتے ہوئے بولا:
“میرا ابا غائب ہے!”
مصریوں نے حیران ہو کر کہا: “کیا؟ لیکن تم نے تو کہا تھا تمہارے ابا کئی سال پہلے فوت ہو چکے ہیں!”
انڈین نے روتے روتے جواب دیا:
“ہاں… ابا فوت ہو گئے تھے… ہم نے ان کی ارتھی جلائی تھی۔ تھوڑی سی راکھ اور ہڈیاں میں ایک برتن میں رکھ کر ساتھ لے آیا تھا… اور وہ میں نے اپنے مصالحوں کے ساتھ رکھ دی تھیں۔ اب وہ برتن ہی غائب ہے!
مصری ایک دوسرے کو خوفزدہ نظروں سے دیکھنے لگے… اور پھر کانپتے ہوئے بولے:
“یعنی وہ… کالی مرچیں نہیں تھیں؟