Urdu Poetry / Jokes / Literature

امجد اسلام امجد

یہ اور بات ہے تجھ سے گلا نہیں کرتے
جو زخم تو نے دیے ہیں بھرا نہیں کرتے

جہاں ہو پیار غلط فہمیاں بھی ہوتی ہیں
سو بات بات پہ یوں دل برا نہیں کرتے


1659569607058.png
 

کبھی ہم خوبصورت تھے
کتابوں میں بسی
خوشبو کی صورت

محبت کے شاعر احمد شمیم کو رخصت ہوئے 43 برس بیت گئے۔

ان کا اصل نام غلام محمد زرگر تھا. 30 مارچ 1929 کو سرینگر میں پیدا ہوئے. تحریک آزادی کشمیر میں سرگرم ہونے کی وجہ سے بھارتی جیل بھی کاٹی . ہجرت کے بعد حکومت آزاد کشمیر کے محکمہ اطلاعات میں شامل ہوئے. ڈائریکٹر کے عہدے پر تھے جب 7 اگست 1982 کو راولپنڈی میں وفات پائی.

احمد شمیم نے افسانے اور ڈرامے بھی لکھے. کشمیری زبان کی شاعری میں بھی وہ بلند مقام رکھتے ہیں. انگریزی میں بھی نظمیں لکھیں. ان کی مطبوعہ کتابوں میں اجنبی موسم میں ابابیل(طویل نظمیں، 1983)،ریت پر سفر کا لمحہ (نظمیں، 1988) ،دگ تہ داغ(کشمیری شاعری، 1989) کبھی ہم خوب صورت تھے( کلیات) ،ہوا نامہ بر ہے(اہلیہ منیرہ کے نام خطوط، 1995) شامل ہیں.

ان کی وفات پر شفقت تنویر مرزا نے لکھا احمد شمیم پرندوں کے پروں پر خوب صورت لفظ لکھنے سے آزاد ہو گیا.

ممتاز مفتی نے کہا احمد شمیم ایک چومکھیا دیا تھا جو بجھ گیا.

مظہر الاسلام نے کہا احمد شمیم تمہارے جانے کے بعد موت کا فلسفہ سمجھ آ گیا.

منو بھائی نے لکھا احمد شمیم کے چہرے پر ہمیشہ خوبصورت مسکراہٹ دیکھنے کو ملی ، یہ مسکراہٹ اس نے موت کی گود میں لیٹے ہوئے بھی قائم رکھی، اور یہ مسکراہٹ اپنے دوستوں کے لئے چھوڑ گیا، جنہیں رنگوں کے جگنو اور تتلیاں آواز دیتی ہیں.

احمد ندیم قاسمی نے کہا احمد شمیم کی نظمیں اردو کے شعری ادب میں آیندہ صدیوں تک زندہ رہنے والے اضافے ہیں.

افتخار عارف نے کہا جدید اردو نظم کا منظر نامہ احمد شمیم کے بغیر مکمل نہیں ہوتا، کبھی ہم خوبصورت تھے، اس کی ایک اعلی' مثال ھے.

بشکریہ: اسلم ملک صاحب


احمد شمیم l ریت پر سفر کا لمحہ

کبھی ہم خوبصورت تھے
کتابوں میں بسی
خوشبو کی صورت
سانس ساکن تھی
بہت سے ان کہے لفظوں سے
تصویریں بناتے تھے
پرندوں کے پروں پر نظم لکھہ کر
دور کی جھیلوں میں بسنے والے
لوگوں کو سناتے تھے
جو ہم سے دور تھے
لیکن ہمارے پاس رہتے تھے
نئے دن کی مسافت
جب کرن کے ساتھہ
آنگن میں اترتی تھی
تو ہم کہتے تھے
امی تتلیوں کے پر
بہت ہی خوبصورت ہیں
ہمیں ماتھے پہ بوسا دو
کہ ہم کو تتلیوں کے
جگنوؤں کے دیس جانا ہے
ہمیں رنگوں کے جگنو
روشنی کی تتلیاں آواز دیتی ہیں
نئے دن کی مسافت
رنگ میں ڈوبی ہوا کے ساتھہ
کھڑکی سے بلاتی ہے
ہمیں ماتھے پہ بوسا دو
ہمیں ماتھے پہ بوسا دو
1659979889651.png
 
  • Like
Reactions: HRK
تُو خدا ھے نہ مرا عشق فرشتوں جیسا
دونوں انساں ہیں تو کیوں اتنے حجابوں میں مِلیں

احمد فراز
 
بہت یاد آتا ھے گزرا زمانہ۔
وہ گاؤں کی گلیوں میں پِیپَل پرانا۔

وہ باغوں میں پیڑوں پہ ٹائر کے جھولے۔
وہ بارش کی بوندوں میں چھت پر نہانا۔

وہ اِملی کے پیڑوں پہ پتھر چلانا۔
جو پتھر کسی کو لگے بھاگ جانا۔

چھپا کر کے سب کی نظر سے ہمیشہ۔
وہ ماں کے دوپٹے سے سکے چرانا۔

وہ سائیکل کے پہئے کی گاڑی بنانا۔
بڑے فخر سے دوسروں کو سکھانا۔

وہ ماں کی محبت وہ والد کی شفقت۔
وہ ماتھے پہ کاجل کا ٹیکا لگانا۔

وہ کاغذ کی چڑیا بنا کر اڑانا۔
وہ پڑھنے کے ڈر سے کتابیں چھپانا۔

وہ نرکل کی قلموں سے تختی پہ لکھنا۔
وہ گھر سے سبق یاد کرکے نہ جانا۔

وہ گرمی کی چھٹی مزے سے بِتانا۔
وہ نانی کا قصّہ کہانی سنانا۔

وہ گاؤں کے میلے میں گڑ کی جلیبی۔
وہ سرکس میں خوش ہوکے تالی بجانا۔

وہ انگلی چھپا کر پہیلی بجھانا۔
وہ پیچھے سے ”ہو“ کر کے سب کو ڈرانا۔

وہ کاغذ کے ٹکڑوں پہ چور اور سپاہی۔
وہ شادی میں اڑتا ہوا شامیانہ۔

مگر یادِ بچپن کہیں سو گئی ھے۔
کہ خوابوں کی جیسے سحر ہو گئی ھے۔

یہ نفرت کی آندھی عداوت کے شعلے۔
یہ سیاست دلوں میں زہر بو گئی ھے۔

زباں بند رکھنے کا آیا زمانہ۔

لبوں پہ نہ آئے امن کا ترانہ
 
مے بااندازہ حرام آمدہ, ساقی برخیز
شیشہِ خود بشکن برسرِ پیمانہِ ما

مُرشد

شراب اعتدال کے ساتھ (ناپ تول کے) پینا حرام ھے,
اے ساقی اُٹھ

اپنی صراحی ہمارے گلاس کے سر پہ دے مار. (جتنی ھے, اُنڈیل دے)
 
نخواہم تند چوں سیلاب گفتن سرگذشتِ خود
کنم پیشِ تو عرض ایں ماجرا ۔۔۔آہستہ آہستہ

واقف لاہوری

میں سیلاب کی طرح جلدی جلدی سے اپنی سرگذشت بیان نہیں کروں گا

بلکہ میں تو تیرے سامنے یہ ماجرا آہستہ آہستہ ہی بیاں کروں گا.
 
اُس کی نفرت کو عمــــرؔ آپ محبت سمجھو
"جو درِ دوست سے مل جائے غنیمت سمجھو"

منتظر دشت ہے، جنگل ہے، گلی کوچے ہیں

ہم میسر ہیں اگر تم کو سہولت سمجھو
 

فیسبکی فلاسفی !

"جو لوگ صرف اپنی تنہائی کا وقت کاٹنے کے لیے آپ کو چاہیں، اُن کے جذبے کو محبّت سمجھ کر اپنے دل کو تکلیف مت دیجیے گا۔"
 
‎اجنبی ہے ہم اس قدر،خود آئینہ میں نہیں پہچانتے اپنی صورت
‎تنہائیوں سے گھبرا کر ہی شاید انساں نے بنائی ہوگی خدا کی مورت

‎وقت رخصت، ملاقات آخر، قصہ مختصر
‎سمجھا گیا وہ ہمیں فرق محبت اور نظریہ ضرورت


‎ح ر خان

 

ادیب اور شاعر ابنِ صفی !
..............
پیدائشی نام : اسرار احمد
قلمی نام : ابنِ صفی
تخلص : اسرار ناروی
جنم بھومی : نارا (الہ آباد ،انڈیا)
میٹرک اور انٹرمیڈیٹ الہ آباد سے کیا
بی اے : آگرہ یونیورسٹی (1949)
ملازمت: اسکول ٹیچر،یادگار حسینی اسکول الہ آباد (انڈیا)

اگست 1952ء میں نقل مکانی کرکے پاکستان (کراچی) آ گئے اور لالو کھیت ،سی ون میں رہائش اختیار کی - 1953ء میں امہ سلمہ خاتون سے شادی ہوئی -سات بچّے ہوئے -چار بیٹے (ڈاکٹر اسرار صفی،ابرار احمد صفی،ڈاکٹر احمد صفی،اور افتخار احمد صفی) تین بیٹیاں ( نزہت افروز، ثروت اسرار ، اور محسنہ صفی)

پہلا جاسوسی ناول "دلیر مجرم" 1952ء میں ادارہ نکہت ،الہ آباد نے شائع کیا-
کل ناولوں کی تعداد 245 - جاسوسی دنیا کے ناول ،125 -اس کے مقبول کردار "کرنل فریدی" اور " کیپٹن حمید" تھے - مرکزی کردار عمران والی سیریز (تعداد 120)کا پہلا ناول "خوفناک عمارت" تھا جو اگست 1955ء کو " اے اینڈ ایچ پبلی کیشن " کراچی سے شائع ہوا-

اکتوبر 1957ء میں "اسرار پبلی کیشن ہاؤس" کی بنیاد لالو کھیت میں رکھی -1958ء میں ناظم آباد میں رہائش اختیار کرنے کے ایک برس بعد پبلی کیشن ہاؤس فردوس کالونی ، ناظم آباد دو نمبر، کراچی منتقل کر لیا-

نومبر 1959ء میں "جاسوسی دنیا میگزین" کا اجرا کیا-
1975ء میں عمران سیریز ناول "بےباکوں کی تلاش" پر فلم "دھماکہ " بنی - عمران سیریز کا آخری ناول "آخری آدمی" تھا جو ان کی وفات کے بعد 11اکتوبر 1980ء کو شائع ہوا تھا-
اردو ادب میں جاسوسی ناول نگاری کا منفرد ادیب ستمبر 1979ء میں کینسر کے موذی مرض میں مبتلا ہؤا اور دس ماہ بعد ماہ رمضان 12واں روزہ بروز ہفتہ ،26 جولائی 1980ء کو اس دار فانی سے کوچ کر گیا اور اپنے پیچھے چار پانچ نسلوں کے شیدائی قارئین کو سوگوار چھوڑ گیا !

ابن صفی اپنے ناولوں کے ذریعے بلامبالغہ لاکھوں لوگوں کو اردو پڑھنے کی ترغیب دے گیا!

مجھے یقینٍ کامل ہے کہ اللہ تعالی نے ضرور اسے اس خدمت گری پر جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطاء فرمایا ہو گا !!
 
  • Like
Reactions: HRK

Users who are viewing this thread

Back
Top