Whatever

found this poetry in these distressed time
ہمیں جو عشق ہوا ہے بہت ہے نسلوں تک
ہمیں جو زخم ملے ہیں حضور کافی ہیں
تمہارے شوق نے وہ کام تک بھی کروائے
جو کام عزتِ سادات کے منافی ہیں
یہ شہر تیرے شبستاں کے راز جان نہ لے
کھلے دریچے بہر طور انکشافی ہیں
چادروچاردیواری حافظوں نے ہی کر دی تارتار
کوفیوں کی رسمِ یزیدی، پِھرادا کر دی گئ
عاصم ونقوِی کی بربریت ہمارا مَان لےگئ
مَان تومَان، عزتِ سادات بھی لےگئ​
 

Users who are viewing this thread

Back
Top