Ajj Ka shair....Today's poetry

Maarkhoor

Snake Eater
Joined
Aug 24, 2015
Messages
20,121
Reaction score
35,316
Reputation
3,277.1
Country of Origin
Country of Residence
تنہائی حد سے گزر جائے کہ خود سے گفتگو نہ ہو
دل بہلانے کو کوئی آئے، کوئی روبرو ہو
رات خاموش ہو، آنکھوں میں نمی ٹھہری رہے
کوئی اپنا سا لگے، اور دل کو کچھ سکون ہو


ہم نے چپ رہ کے بھی کتنی صدائیں دی ہیں
کوئی سمجھے تو سہی، درد ہمارا کیا ہو
زندگی یوں ہی گزرتی ہے کسی کے بن مگر
دل یہی چاہتا ہے، کوئی اپنا سا روبرو ہو
 
تنہائی حد سے گزر جائے کہ خود سے گفتگو نہ ہو
دل بہلانے کو کوئی آئے، کوئی روبرو ہو
رات خاموش ہو، آنکھوں میں نمی ٹھہری رہے
کوئی اپنا سا لگے، اور دل کو کچھ سکون ہو

ہم نے چپ رہ کے بھی کتنی صدائیں دی ہیں
کوئی سمجھے تو سہی، درد ہمارا کیا ہو
زندگی یوں ہی گزرتی ہے کسی کے بن مگر
دل یہی چاہتا ہے، کوئی اپنا سا روبرو ہو

کبھی یادوں کے دریچوں سے کوئی جھانک جائے
بے سبب دل کے کسی زخم کو سہلا جائے
ہم جو برسوں سے چھپائے ہوئے بیٹھے ہیں غم
کوئی پوچھے تو سہی، آنکھ بھی نم ہو جائے

کتنی آوازیں دبائی ہیں زمانے کے لیے
کتنے ارمان مٹائے ہیں بہانے کے لیے
ہم نے ہر شخص کو ہنس کر تو الوداع کہا
پر کوئی تھا ہی نہیں دل کو منانے کے لیے

اب تو آئینہ بھی چپ چاپ سا لگتا ہے مجھے
اپنا چہرہ بھی پرایا سا لگتا ہے مجھے
جس سے کہہ دوں کہ میں اندر سے بکھر بیٹھا ہوں
ایسا کوئی بھی تو اپنا سا نہیں ملتا مجھے

رات آتی ہے تو خاموشی بڑھا دیتی ہے
تیری یاد آ کے مجھے اور رُلا دیتی ہے
میں سمجھتا ہوں کہ اب بھول گیا ہوں تجھ کو
ایک خوشبو تیری پھر سب کچھ یاد دلا دیتی ہے

کاش کوئی ہو جو خاموشی بھی سمجھا کرے
میرے لہجے میں چھپی بات کو پڑھا کرے
میں اگر کچھ نہ کہوں، پھر بھی سمجھ لے دل کی
اور بس پاس رہے، کچھ بھی نہ کہا کرے

ہم کو دولت نہ محبت کی نمائش چاہیے
بس کسی دل میں ذرا سی تو جگہ چاہیے
کوئی ایسا ہو جو بچھڑے تو کمی محسوس ہو
اور ملے تو یوں لگے، عمر سے جانا پہچانا ہو

تھک گیا ہوں میں زمانے کو سمجھتے سمجھتے
لوگ ملتے رہے، چہروں کو بدلتے بدلتے
اب تو خواہش ہے فقط اتنی سی، اے دلِ ناداں
کوئی مل جائے جو اپنا ہو، نہ بدلے جاتے جاتے

اور جب آخری بارش میں یہ دنیا بھیگے
کوئی بیٹھا ہو مرے پاس، نہ جانے کب سے
میں بھی خاموش رہوں، وہ بھی خاموش رہے
اور آنکھوں ہی سے کہے: "میں ہوں، ترے ساتھ یہاں۔"
 
دل کی بستی میں چراغوں کو بجھا رہا ہوں
میں اندھیروں میں بھی خود کو ہی ڈھونڈتا رہا ہوں

جن کو اپنا سمجھا، وہ سب دور نکلتے گئے
میں محبت کے عوض درد ہی پاتا رہا ہوں

میری آواز کسی تک بھی نہ پہنچی شاید
میں تو برسوں سے فقط خود کو بلاتا رہا ہوں

لوگ کہتے ہیں کہ حالات بدل جاتے ہیں
میں مگر وقت کے ہاتھوں ہی بدلتا رہا ہوں

جس کو سینے سے لگایا تھا کبھی اپنا سمجھ کر
وہی ہر موڑ پہ مجھ سے مجھے چھینتا رہا ہوں

کسی نے حال نہ پوچھا، نہ کسی نے سمجھا
میں ہنستا بھی رہا، درد بھی سہتا رہا ہوں

رات بھر آنکھ سے بہتے رہے خاموش آنسو
صبح ہوتے ہی انہیں سب سے چھپاتا رہا ہوں

اب تو آئینے سے نظریں بھی ملانا مشکل
اپنے چہرے میں کئی لوگ گنواتا رہا ہوں

کاش اک شخص کبھی بیٹھ کے اتنا کہہ دیتا
"میں ہوں نا" — اسی اک لفظ کو ترستا رہا ہوں

نہ شکایت ہے کسی سے، نہ کوئی شکوہ مجھے
اپنی قسمت کو ہی خاموش سناتا رہا ہوں

اب کسی در پہ امید لیے جاؤں بھی تو کیوں
میں تو ہر در سے کئی بار پلٹتا رہا ہوں

زندگی مجھ سے مسلسل یہی کہتی رہی
اور میں ٹوٹ کے بھی خود کو بچاتا رہا ہوں

آخرِ شب یہی احساس مجھے مار گیا
میں سب کا تھا، مگر خود سے ہی جدا رہا ہوں۔
 

Users who are viewing this thread

Pakistan Defence Latest

Country Watch Latest

Latest Posts

Back
Top