1996ء میں لندن میں پاکستانی سفارت خانے میں ایک مشاعرہ منعقد ہوا وہاں پر احمد فراز نے جب اپنی غزل "سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں" سنائی تھی تو آخری شعر کا پہلا مصرعہ پڑھنے پر، "اب اس کے شہر میں ٹھہریں کہ کوچ کر جائیں" سامعین میں سے بے شمار لڑکیوں کی آواز ایک ساتھ گونج اٹھی تھی "ٹھہر جائیں، پلیز ٹھہر جائیں"
سنا ہے لوگ اُسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں
تو اس کے شہر میںکچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں
This site uses cookies to help personalise content, tailor your experience and to keep you logged in if you register.
By continuing to use this site, you are consenting to our use of cookies.