Urdu Poetry / Jokes / Literature

امیرؔ مینائی کی ایک لازوال ، مشہور اور مکمل غزل ملاحظہ فرمائیں...

ہوئے نام وَر بے نشاں کیسے کیسے
زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے

تری بانکی چتون نے چُن چُن کے مارے
نکیلے سجیلے جواں کیسے کیسے

نہ گُل ہیں نہ غُنچے نو بُوٹے نہ پتے
ہوئے باغ نذرِ خزاں کیسے کیسے

یہاں درد سے ہاتھ سینے پہ رکھا
وہاں ان کو گزرے گُماں کیسے کیسے

ہزاروں برس کی ہے بُڑھیا یہ دنیا
مگر تاکتی ہے جواں کیسے کیسے

ترے جاں نثاروں کے تیور وہی ہیں
گلے پر ہیں خنجر رواں کیسے کیسے

جوانی کا صدقہ ذرا آنکھ اٹھاؤ
تڑپتے ہیں دیکھو جواں کیسے کیسے

خزاں لُوٹ ہی لے گئی باغ سارا
تڑپتے رہے باغباں کیسے کیسے

امیرؔ اب سخن کی بڑی قدر ہو گی
پھلے پھولیں گے نکتہ داں کیسے کیسے

امیرؔ مینائی
 
علم وعشق
علم نے مجھ سے کہا عشق ہے ديوانہ پن
عشق نے مجھ سے کہا علم ہے تخمين و ظن
بندہ تخمين و ظن! کرم کتابی نہ بن

عشق سراپا حضور، علم سراپا حجاب

عشق کی گرمی سے ہے معرکۂ کائنات
علم مقام صفات، عشق تماشائے ذات
عشق سکون و ثبات، عشق حيات و ممات

علم ہے پيدا سوال، عشق ہے پنہاں جواب

عشق کے ہيں معجزات سلطنت و فقر و ديں
عشق کے ادنی غلام صاحب تاج و نگيں
عشق مکان و مکيں، عشق زمان و زميں

عشق سراپا يقيں، اور يقيں فتح باب

شرع محبت ميں ہے عشرت منزل حرام
شورش طوفاں حلال، لذت ساحل حرام
عشق پہ بجلی حلال، عشق پہ حاصل حرام
علم ہے ابن الکتاب، عشق ہے ام الکتاب

علامہ اقبال
 

Users who are viewing this thread

Latest Posts

Back
Top