Urdu Poetry / Jokes / Literature

1778354250029.png


یہ تصویر لاہور کی کسی خاموش دوپہر کی گواہی دیتی ہے۔ پس منظر میں سادہ سی باڑ، ہلکی سی دھوپ، اور تین چہرے — جن پر ایک عہد کی فکری روشنی ٹھہری ہوئی ہے۔ دائیں جانب ناصر کاظمی، درمیان میں احمد ندیم قاسمی، اور بائیں طرف قتیل شفائی۔ یہ محض تین آدمی نہیں، اردو ادب کے تین مزاج، تین لہجے، تین زمانے ایک فریم میں سمٹ آئے ہیں۔
سوچیے، شاید یہ مال روڈ کے کسی مشاعرے سے پہلے کا لمحہ ہے۔ شاید پاک ٹی ہاؤس میں ابھی نشست شروع ہونی ہے۔ شاید ریڈیو پاکستان لاہور کی عمارت سے ابھی کسی پروگرام کی ریکارڈنگ مکمل ہوئی ہے۔ اور یہ تینوں ذرا سا رکے ہیں، جیسے وقت کو تصویر میں قید کرنے کے لیے۔
ناصر کاظمی کے چہرے پر وہی مانوس سی اداسی ہے — تقسیم کا دکھ، ہجرت کی کسک، لاہور کی گلیوں میں ایک مستقل اجنبیت کا احساس۔ ان کی شاعری میں شام جلد اتر آتی ہے۔ چراغ جلد جل اٹھتے ہیں۔ اور دل دھڑکنے کا سبب اچانک یاد آ جاتا ہے۔
دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا
وہ تری یاد تھی اب یاد آیا
یہ شعر محض یاد کا بیان نہیں، ایک پوری نسل کے دل کی دھڑکن ہے۔ ناصر کے ہاں شہر بھی تنہا ہے، موسم بھی، اور شاعر بھی۔
شہر سنسان ہے کدھر جائیں
خاک ہو کر کہیں بکھر جائیں
ان کے لہجے میں شور نہیں، ایک دھیمی آگ ہے۔ وہ محبت بھی کرتے ہیں تو جیسے کسی ویران سڑک پر تنہا چلتے ہوئے کرتے ہیں۔
درمیان میں کھڑے احمد ندیم قاسمی کا وجود اس منظر میں توازن پیدا کرتا ہے۔ ان کے اندر دیہات کی مٹی کی خوشبو ہے، کھیتوں کی وسعت ہے، اور انسان دوستی کا گہرا یقین۔ وہ صرف شاعر نہیں، سرپرست بھی تھے۔ کتنے نوجوان قلم ان کے رسالے "فنون" سے پہچان پاتے رہے۔ ان کے ہاں جذبہ ہے مگر نظم و ضبط کے ساتھ۔ احتجاج ہے مگر تہذیب کے دائرے میں۔
خدا کرے کہ مری ارضِ پاک پر اترے
وہ فصلِ گل جسے اندیشۂ زوال نہ ہو
اور محبت میں بھی ان کا انداز دیکھئے — نہ مبالغہ، نہ شور:
میں نے جب تجھ سے محبت کی تھی
خود کو بھولا تھا، خدا کو بھی نہیں
یہ مصرع جیسے اعتراف بھی ہے اور اعتدال بھی۔ تصویر میں بھی وہ دونوں اطراف کے مزاجوں کے بیچ ایک فکری پل کی طرح کھڑے ہیں — ایک طرف ناصر کی اداس شام، دوسری طرف قتیل کا مترنم رومان۔
اور قتیل شفائی… ان کے چہرے پر ایک نرم سی روشنی ہے۔ ان کے لفظ گاتے ہیں۔ وہ مشاعرے کے شاعر بھی ہیں اور فلمی نغموں کے خالق بھی۔ ان کی غزل عام دلوں تک راستہ بنا لیتی ہے۔
وہ دل ہی کیا ترے ملنے کی جو دعا نہ کرے
میں تجھ کو بھول کے زندہ رہوں خدا نہ کرے
یہ وہ سادگی ہے جو براہِ راست دل میں اترتی ہے۔ قتیل کے ہاں محبت ایک زندہ تجربہ ہے — نہایت انسانی، نہایت قریب۔ وہ پردیس کی بات بھی کرتے ہیں تو جیسے خود کسی اندرونی جلاوطنی سے گزر رہے ہوں۔
اپنی دھرتی کے سدا لوٹ کے آنا قتیل
جا کے پردیس میں تنہا نہ بہت یاد آنا
اس ایک تصویر میں تینوں کی آنکھوں میں الگ الگ کہانیاں ہیں۔ ناصر کی آنکھوں میں بچھڑے ہوئے شہر کی دھند۔ قاسمی کی نگاہ میں معاشرتی شعور کی سنجیدگی۔ قتیل کی آنکھوں میں رومان کی نرم چمک۔ مگر تینوں میں ایک قدر مشترک ہے — لفظ پر ایمان۔
یہ وہ زمانہ تھا جب شاعر ہونا محض مشہور ہونا نہیں تھا، ایک تہذیبی ذمہ داری تھی۔ مشاعرے محفلِ آداب ہوتے تھے، جہاں داد بھی تہذیب سے دی جاتی تھی اور اختلاف بھی وقار سے کیا جاتا تھا۔ لاہور کی فضا میں اس وقت ادب صرف کتابوں میں نہیں، زندگی میں سانس لیتا تھا۔
آج جب اس تصویر کو دیکھتے ہیں تو یوں لگتا ہے جیسے وقت کی دیوار میں ایک کھڑکی کھل گئی ہو۔ ہم اس کھڑکی سے جھانک کر ایک ایسے دور کو دیکھتے ہیں جہاں لفظوں میں سچائی تھی، جذبوں میں گہرائی تھی، اور شاعری زندگی کا حصہ تھی، مشغلہ نہیں۔

ناصر کی شام ابھی بھی کہیں نہ کہیں اترتی ہے۔ قاسمی کی صبح ابھی بھی امید دلاتی ہے۔ اور قتیل کی دوپہر ابھی بھی محبت کے رنگ بکھیرتی ہے۔ یہ تصویر محض ایک یادگار نہیں — ایک عہد کی دھڑکن ہے، جو اب بھی سنائی دیتی ہے، اگر ہم ذرا خاموش ہو کر
 
ساغر صدیقی کی ایک شاہکار غزل

ہم اہل وفا حسن کو رسوا نہیں کرتے
پردہ بھی اٹھے رخ سے تو دیکھا نہیں کرتے

دل اپنا تصور سے ہی کر لیتے ہیں روشن
موسٰی‌کی طرح طور پہ جایا نہیں کرتے

رکھتے ہیں جو اوروں کےلئے پیار کا جذبہ
وہ لوگ کبھی ٹوٹ‌کے بکھرا نہیں‌ کرتے

ہم لوگ تو مے نوش ہیں، بدنام ہیں، ساغؔر

پاکیزہ ہیں جو لوگ ، وہ کیا کیا نہیں کرتے
 
To view this content we will need your consent to set third party cookies.
For more detailed information, see our cookies page.
 

Users who are viewing this thread

Country Watch Latest

Latest Posts

Back
Top