· آج قتیل شفائی کا یوم وصال ہے. ان کی مغفرت کے لئے دعا کیجئے.
انہوں نے پاکستانی اور ہندوستانی فلموں کے لئے 3000 گیت لکھے تھے۔
ان کی ایک غزل آپ کی نذر.
.
صدمہ تو ہے مجھے بھی کہ تجھ سے جدا ہوں میں
لیکن یہ سوچتا ہوں کہ اب تیرا کیا ہوں میں
بکھرا پڑا ہے تیرے ہی گھر میں ترا وجود
بے کار محفلوں میں تجھے ڈھونڈتا ہوں میں
میں خودکشی کے جرم کا کرتا ہوں اعتراف
اپنے بدن کی قبر میں کب سے گڑا ہوں میں
کیا جانے کس ادا سے لیا تو نے میرا نام
دنیا سمجھ رہی ہے کہ سچ مچ ترا ہوں میں
پہنچا جو تیرے در پہ تو محسوس یہ ہوا
لمبی سی ایک قطار میں جیسے کھڑا ہوں میں
لے میرے تجربوں سے سبق اے مرے رقیب
دو چار سال عمر میں تجھ سے بڑا ہوں میں
جاگا ہوا ضمیر وہ آئینہ ہے قتیلؔ سونے سے پہلے روز جسے دیکھتا ہوں میں
This site uses cookies to help personalise content, tailor your experience and to keep you logged in if you register.
By continuing to use this site, you are consenting to our use of cookies.