Urdu Poetry / Jokes / Literature

To view this content we will need your consent to set third party cookies.
For more detailed information, see our cookies page.
 
1731190739983.png



1.بلونت سنگھ (1921-1986)
2.جگن ناتھ آزاد (1918-2004)
3.ساحر لدھیانوی (1921-1980)
4. بسمل سعیدی (1901-1976)
5.جوش ملیح آبادی (1898-1982)
6.جان نثار اختر (1914-1976)
7.دیوندر ستیارتھی (1908-2003)
8.اسرار الحق مجاز (1911-1955)
9.عرش ملسیانی (1908-1979)
Courtesy: Sheza Asharaf
 
  • Like
Reactions: HRK
1731191028272.png

زھرہ نگاہ۔سید محمد جعفری ۔ ظریف جبلپوری
 

کیا کبھی دریاؤں کی زندگی پر غور کیا؟
1۔ دریا کبھی واپس نہیں بہتے، ہمیشہ آگے ہی آگے۔۔۔ماضی کو بھول کر آپ بھی مستقبل پر فوکس کریں
2۔ دریا اپنا رستہ خود بناتے ہیں، لیکن اگر کوئی بڑی رکاوٹ سامنے آ جائے تو آرام سے اپنا رخ موڑ کر نئی راہوں پر چل پڑتے ہیں
مشکلوں اور رکاوٹوں سے لڑنا، بحث کرنا اور ضد کرنا دراصل وقت ضائع کرنا ہے۔
3۔ آپ گیلے ہوئے بغیر دریا پار نہیں کر سکتے
اسی طرح آپ کو دکھ سکھ کے ساتھ ہی زندگی گزارنا ہوگی۔ ہمت اور حوصلے کے ساتھ۔
4۔ دریاؤں کو دھکا نہیں لگانا پڑتا، یہ خود ہی آگے بڑھتے ہیں۔۔۔
کسی کے سہارے کے بغیر اپنا کام خود کریں
5۔ جہاں سے دریا زیادہ گہرا ہوتا ہے، وہاں خاموشی اور سکوت بھی زیادہ ہوتا ہے۔
علم والے اور گہرے لوگ بھی پرسکون ہوتے ہیں.
6۔ پتھر پھینکنے والوں سے الجھے بغیر دریا بہتے چلے جاتے ہیں۔۔۔
روڑے اٹکانے والوں کی پرواہ کیے بغیر آپ بھی اپنی زندگی رواں دواں رکھیں۔
7۔ *ایک بڑا دریا چھوٹی ندیوں، نالوں اور چشموں کو اپنے ساتھ ملنے سے کبھی منع نہیں کرتا۔۔۔
آپ بھی اپنا ظرف بلند اور نگاہ سربلند کر کے تو دیکھیں
 
زبان کے چٹخارے کی یہ فہرست مختصر ہے ۔ اس میں اضافے کی بڑی گنجائش ہے ۔ کراچی کے کچھ علاقوں کے اپنے چٹخارے ہیں جن کا ذائقہ پورے کراچی والوں نے بھی چکھا ۔ بڑا شہر ہے ، بڑی باتیں ہیں اور سب کے لیے دل سادہ و کشادہ ہے۔ ۔
۔ ٹوپی : شہر والے اتنی پہنتے نہیں جتنا بولتے ہیں ۔ ویسے میرا ذاتی مشاہدہ ہے کہ یہ شہر اتنا کچھ جھیلنے اور سہنے کے باوجود ٹوپی باز نہیں ۔
۔ ماموں : یہ لفظ رشتے داری سے زیادہ تعلق داری میں بولا جاتا ہے ۔ کہیں کہیں لگتا کہ کسی کو احمق ظاہر کر رہا ہے لیکن اب کثرت استعمال سے یہ اپنائیت کے زمرے میں آ گیا
۔ لڑکے : آپس کی گفتگو میں پیار بھرا اظہار ہے ۔ لڑکا کہنے میں عمر کی قید ضروری نہیں ۔ واحد شرط یہ ہے کہ مخاطب زندگی کی قید میں ہو ۔
۔ چاچا : یہ بڑی عمر کا اظہاریہ ہے لیکن کبھی کبھی یہ سامنے والی کی کم عقلی کے اظہار کا بھی ذریعہ ہے ۔
۔ او بھائی : بہت وسیع الاظہار ہے ، آپ پیار ، محبت ، غصے میں کہیں بھی بول سکتے ہیں ۔ اس کا سارا صورت حال کو دیکھتے ہوئے آواز اور لہجے سے عیاں ہوتا ہے
۔ بہت بڑی فلم ہے : یہ دوسرے کی کارگزاری کا آئینہ دار ہے ۔ اعتراف اور اعتراض دونوں کا غماز ہے ۔
۔ کیا سین ہے : صورت حال سے متعلق جاننے کے لیے استعمال ہوتا ہے ۔
۔ تو اس کو چھوڑ : جب دوسرے کی باتوں سے بور ہو جائیں یا موضوع بدلنا ہو
۔ سائیڈ پکڑ لو : مطلب یہ کہ جان چھڑاو ، ایک طرف ہو جاو ۔
۔ تو کیا کر لے گا ؟ : صورت حال پر منحصر ہے ۔ لڑائی سے لے کر سمجھانے تک کہیں بھی بولا جاتا ہے ۔
۔ ہلکا لے رہا ہے : یہ جملہ بھاری اور ہلکے وزن کا کوئی بھی شخص کہہ سکتا ہے ۔ اس سے مراد صلاحیت پر شک رفع کرنا ہوتا ہے ۔ ۔
۔ تو تو نکل : دخل در نا معقولات پر کہا جاتا ہے یا ایسے موقع پر کہ جب کسی کو کسی مسئلے سے نکالنا یا الگ کرنا ہو
۔ یہ کس چکر میں ہے ؟ : کسی ایسے شخص کے لیے کہ جو بلاوجہ یا غیر ضروری طور پر کسی بات یا معاملے میں دخل اندازی کر رہا ہو یا اس کا حصہ بن رہا ہو ۔
۔ تو کچھ بھی کر لے : مطلب یہ کہ تیری چلنی نہیں ہے ۔ بیکار میں اپنا وقت ضائع کر رہا ہے ۔
۔ اب کرنا کیا ہے ؟ : یہ سوال ایکشن کا متقاضی ہے۔ حالانکہ ہونا ہوانا کچھ نہیں۔ کہنے والا گفتار کا غازی ہے ۔
۔ ابے کیا ۔۔۔۔۔ سمجھ رہا ہے : یہ جملہ اتنا بولا جاتا ہے کہ گنتی میں نہیں آتا ہے ۔ خالی جگہ کو آپ سامنے والے سے تعلق اور حفظ مراتب کے تعلق سے بھر اور کہہ سکتے ہیں ۔
۔ اس کو بتا دینا : یہ دوسرے شخص کو تنبیہ کے لیے متعلقہ شخص کی عدم موجودگی میں بارے دھڑلے سے بولا جاتا ہے ۔ اس جملے کی دھمک میں دھمکی چھپی ہے ۔
۔ بہت بڑا ڈرامے باز ہے : متعلقہ شخص کی حقیقت معلوم ہے ۔ احمق سمجھنے یس بنانے کی چنداں ضرورت نہیں چندا ۔
۔ بہت فنٹر ہے : زمانے بھر کا چال باز ہے ۔ کیا سمجھتا ہے ہمیں پتہ نہیں ۔
۔ چھم چھم کرا لو : ایسے شخص کے لیے جو محفل لگانے یا نام و نمود کا شوقین ہو ۔
۔ ائے ویں آی : یہ کراچی والوں کی خاص ادا ہے جو گفتگو میں ادا کرتے ہیں۔ مراد ہے کہ بے مقصد کوئی فائدہ نہیں ۔
۔ اڑ گئے : الف پر پیش لگا لیں ۔ یہ انداز تخاطب کراچی کی بڑی بوڑھیوں کا ہے جو اب متروک ہوتا جا رہا ہے ۔ مذکر کے لیے اڑ گئے اور مونث کے لیے اڑ گئی ۔ استعمال کا تعلق موڈ پر ہے ۔
۔ بات تو کر کے دیکھ : کسی ایسے شخص کے لیے جو ماننے کو تیار نہ ہو ۔
۔ گھوماتا بہت ہے ۔ ایسا شخص جو بات ماننے کے بجائے آئیں بنائیں شائیں کرتا ہو ۔
۔ چراندی : ایسا شخص جو کسی بھی وقت مسئلہ کھڑا کر سکتا ہو ۔ ایسے شخص کو گند بھی کہا جاتا ہے .
۔ پکاو : ایسا شخص جو بہت بولتا ہو اور بار بار دہراتا ہو کہ کان پک جائیں
۔ کیا بولا ؟ : یہ عام گفتگو یا اظہار ناراضی پر بولا جاتا ہے
۔ کھوپڑی گھما دیتا یے : غصہ دلاتا ہے۔ مزاج کے خلاف بات کرتا ہے
۔ شوم ۔ ش پر پیش لگا کر پڑھیں ۔ اس کا مطلب ہے کہ بڑا کنجوس ، مکھی چوس اور خرچ میں ہاتھ روک ہے ۔
. ٹیکسی کرانا ۔ جھگڑے میں کسی شخص کو بحفاظت نکالنا۔


ابھی یہ فہرست بہت مختصر ہے ۔ اس کے لیے تو ایک کتاب درکار ہے ۔ آپ بھی اضافہ کر سکتے ہیں
 
Aali Jee

1669153035458.png



Jamiluddin Aali was born in his maternal grandparents’ home in Koocha-e-Chailaan, Delhi on 20th January 1925. His father, Nawab Sir Amiruddin Ahmad Khan, was the ruler of the State of Loharu in India. Pre-partition, there were 605 States in the Indian sub-continent, of which Loharu was a significant one. Its founder, Fakhr ud Daula Nawab Ahmad Baksh Khan, was Jamiluddin Aali’s great grandfather. The family’s unique recognition was its extraordinary literary background. Jamiluddin Aali’s lineage connects with Mirza Ghalib on the paternal side and with Khwaja Mir Dard on his maternal side. Having completed his primary education at home, he cleared his matriculation in 1940 from Anglo-Arabic School, then intermediate in 1942 and finally obtained a Bachelors of Arts degree from Anglo-Arabic Intermediate College in 1944. His given name was Nawabzada Jamiluddin Ahmad Khan and, having written his first poetic couplet at the age of 14, he chose Aali as his nom de plume in respect of his grandfather Nawab Alauddin Ahmad Khan Alai.

Upon completion of his BA degree and blessed with a poetic temperament, Jamiluddin Aali travelled to Bulandshahr at the invitation of his cousin Sahibzada Samsaamuddin Mirza Feroz. There he met his host’s daughter Tayyaba Bano. Jamiluddin Aali became besotted with her chaste beauty and pleasant demeanor. She was older than he, but his relentless desire for her finally convinced the family and on 20th September 1944 the two were married in a simple, traditional Nikah ceremony.

At this time during Jamiluddin Aali’s life, the Pakistan Movement was at its zenith. From Sir Syed Ahmad Khan and Allama Iqbal’s two-nation theory to the creation of Pakistan, the leaders of the movement undertook a struggle wrought with sacrifice with Quaid e Azam Mohammad Ali Jinnah at the helm. Some respected names of the movement were Nawab Mohsinul Mulk, Maulana Zafar Ali Khan, Mohtarma Fatima Jinnah, Liaquat Ali Khan, Sir Sultan Mohammad Aga Khan, Chaudhry Rehmat Ali, Syed Amir Ali, Abdullah Haroon, A K Fazlul Haq and Nawab Ismail Khan.

Responding to Quaid e Azam’s appeal, Jamiluddin Aali, like hundreds of thousands of others, opted to migrate to the newly born Pakistan. On 13th August 1947, taking a train with his wife Tayyaba Bano and their infant daughter Humaira, he arrived in Karachi. Thus began Jamiluddin Aali’s life in Pakistan. Living in a modest 2 room house on Abbyssinia Lines and overwhelmed with logistical issues emerging from massive migration from India, Jamiluddin Aali remained steadfast in his commitment to Pakistan.

In 1951 he cleared the Civil Services of Pakistan examination and was assigned to the Department of Taxation. Finally, he could enjoy some stability in his professional life and progressed to the banking sector where he benefited from the mentorship of Jamil Nishtar, son of Sardar Abdur Rab Nishtar, and participated in the evolution and growth of National Bank of Pakistan. After an association of 22 years, he retired from NBP as Senior Executive Vice President. Jamiluddin Aali’s visionary and multi-faceted personality connected him with well-known, highly respected contemporaries such as Farman Fatehpuri, Gopi Chand Narang, Dr. Abdus Salam, Mumtaz Hassan, Ashfaq Ahmed, Ahmad Nadeem Qasmi, Faiz Ahmed Faiz, Quratulain Haider, Saleem Ahmed and Anne Marie Schimmel.

Jamiluddin Aali’s first poetry collection, titled “Ghazlain, Dohay, Geet”, was published in 1957 after which several publications and continuous editions came forth. His unparalleled achievements have been " La hasil" “Jeevay Jeevay Pakistan”, “Duniya Merey Aagey”, “Dua Karey Chalo”, “Ae Merey Dasht e Sukhan”, and the 10,000 lines epic “Insaan”. His poetry is positive and fresh with an inherent element of modernism, yet the language is simple and permeated with appealing musicality. This signature style has made Jamiluddin Aali’s poetry tremendously popular.

Jamiluddin Aali’s writings go beyond poetry and he expresses his views and concerns about societal changes through these. For 8 years, he remained closely associated with Mir Khalil ur Rehman and had an opinion column published in Jang newspaper. He wrote extensively against gender discrimination in society, especially related to economic exploitation through dowry and similar gender related practices.

Pakistan Arts Council, Urdu Language Board, National Book Foundation, National language Authority and Pakistan Academy of Letters are some of the esteemed institutions which have benefited from Jamiluddin Aali’s literary thought leadership. He undertook the challenging task of bringing writers to one platform. His efforts bore fruit when 212 Pakistani writers and poets participated in the All Pakistan Writers’ Convention held in 1959 in Karachi, resulting in the creation of the Writers’ Guild.

Collaborating with Farhad Zaidi, Jamiluddin Aali participated in a television program titled “Duniya e Pakistan” which focused on identifying the country’s problems and discussing ways and means to overcome them. The intelligentsia of Pakistan – writers, thinkers, economic experts, sociologists etc. – participated in the program with proposals.

The renowned “Anjuman e Tarraqi e Urdu” and its erstwhile Secretary Maulvi Abdul Haq, also known as “Baba e Urdu”, held a special place in Jamiluddin Aali’s heart. He took the reigns as Secretary after the demise of Baba e Urdu and passionately pursued the charter of sponsoring and supporting publishing houses, academies and libraries.

The institute boasts over 60,000 publications currently, many of which are translations and publications commissioned by Jamiluddin Aali. It was his practice to pen the preface to these literary pieces under the title “Harf e Chand” or “A Few Words”.

In 1966, Urdu College for the Arts was set up under the auspices of “Anjuman e Tarraqi e Urdu” and Jamiluddin Aali was appointed to manage it, which he did until the institution was nationalized in 1973. During an official visit to China, he was able to bring the college to Chinese Premier Chou En Lai’s attention and received a substantial development grant from the Chinese Government.

This was utilized to construct the science section of Urdu College in Gulshan e Iqbal, 20 acres of land for which was purchased by the college in 1964. Due to Jamiluddin Aali’s untiring efforts, Urdu College received charter as a University in 2002.

For the historic Islamic Summit held in Pakistan in 1974, Jamiluddin Aali wrote these lyrics which symbolized the collective, collaborative spirit of Muslim nations across the world:

Over the course of Pakistan’s existence, whenever the country was faced with a difficult situation related to its integrity and security, Jamiluddin Aali responded promptly and vociferously through his heartwarming poetry which imbued the nation’s heart with hope and a spirit to prevail and rebuild.

His poetry inspires a deep sense of patriotism. A thought leader sets his vision on the future and, through his writings, identifies possibilities for forward and upward change. Thus, he becomes an agent for positive change, a role than has defined Jamiluddin Aali throughout his journey,

On 16th September 2013, Jamiluddin Aali bore the tragedy of his beloved wife Tayyaba Bano’s demise, and on 23rd November 2015, at the age of 90, he left for his heavenly abode. He is buried alongside his mother and wife, in Karachi.

Jamiluddin Aali was a passionate poet who ventured forth to pursue his dreams and in the process ignited the spirit of young Pakistan in such a way that he will forever remain a beacon for coming generations.

Courtesy : Murad Jamil
 
بد سلیقوں کو مِل گئی دنیا
ہم کھڑے رہ گئے قطاروں میں

دوستوں کا ہجوم ہے لیکن
اک بھی مخلص نہیں ہزاروں میں

فوزیہ شیخ
 
ملے خاک میں اہلِ شاں کیسے کیسے
مکیں ہو گٔیٔے لا مکاں کیسے کیسے
ھؤے ناموَر بے نشاں کیسے کیسے
زمیں کھا گٔیٔ آسماں کیسے کیسے
اجل نے نہ کسریٰ ہی چھوڑا نہ دارا

اسی سے سکندرسا فاتح بھی ہارا
 
(جمیل الدین عالی صاحب نےیہ غزل ١٩٨۵ میں کہی۔۔۔)

تمھیں مجھ میں کیا نظر آگیا جو میرا یہ روپ بنا گئے ۔۔۔۔۔۔
وہ تمام لوگ جو عشق تھے وہ میرے ووجود میں آگئے ۔۔۔۔۔۔
نہ تیرے سوا کوئی لکھ سکے نہ میرے سوا کوئی پڑھ سکے ۔۔۔۔۔۔
یہ حروف بے ورق و سبق ہمیں کیا زباں سکھا گئے ۔۔۔۔۔۔۔
نہ کر آج ہم سے یہ گفتگو مجھے کیوں ہوئ تیری جستجو۔۔۔۔۔۔
ارے ہم بھی ایک خیال تھے سو تیرے بھی زہن میں آگئے ۔۔۔۔۔۔۔۔
جو سنا کہ گھر تیرے جائینگے تیرے صحن و باغ سجائنگے ۔۔۔۔۔۔۔
میرے اشک اڑ کے ہوا کے ساتھ انہی بادلوں میں سما گئے ۔۔۔۔۔۔
دلِ شب میں صبح کی دھڑکنیں ابھی ابتدائے غزل میں تھیں ۔۔۔۔۔۔
کہ وہ آے اور تمام شعر میری ہی دھن میں سنا گئے ۔۔۔۔۔
جو نہ آپ اس پہ ہوئے عیاں یہ رکھے گا ہم کو بھی سرگراں ۔۔۔۔۔۔
کئ بار لے کے شکایتیں میرے دوست ارض و سما گئے ۔۔۔۔۔۔۔
کئ محفلوں میں ٹو یوں ہوا کہ جب آئے ِعالی اے خوش ادا ۔۔۔۔۔
جو نہ کھل سکے تو چھپے رئے جو نہ رو سکےوہ رلا گئے ۔۔۔۔۔۔


(جمیل الدین عالی)
(1925--2015)
 
ہر چند سہارا ہے ، تیرے پیار کا دل کو
رہتا ہے مگر ، ایک عجب خوف سا دل کو



1665585597581.png





اردو اور فارسی کے ممتاز شاعر پروفیسر شہرت بخاری ۔

شہرت بخاری کا اصل نام سید محمد انور تھا۔ 2 دسمبر 1925 کو لاہور میں پیدا
ہوئے تھے۔

اردو اور فارسی میں امتیازی حیثیت سے ایم اے کیا۔ عملی زندگی کا آغاز مجلسِ زبانِ دفتری سے کیا ، پھر تدریس کی طرف آئے۔ اسلامیہ کالج لاہور کے صدر شعبۂ اردو و فارسی رہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد کچھہ عرصہ اقبال اکیڈمی کے ڈائریکٹر کے طور پر بھی کام کیا۔

شاعری میں پہلے نرگس تخلص تھا۔ احسان دانش سے تلمذ حاصل ہوا تو ان کے مشورے پر شہرت تخلص اختیار کیا۔ ۔حلقۂ اربابِ ذوق کے اہم رکن تھے۔ حلقہ اربابِ ذوق میں جب نوجوانوں نےغمِ دوراں کا ذکر کچھہ زیادہ زور شور سے شروع کیا تو کچھہ بزرگوں نے اسے سیاست قرار دیا ، ۔حلقے پر سیاسی کا لیبل لگایا اور الگ سے حلقہ اربابِ ذوق (ادبی) بنا لیا۔

سیاست سے نفور کے باعث شہرت صاحب بھی اس میں پیش پیش تھے لیکن پھر ضیاع الحق کےدورِ جبر میں کسی بھی حساس شخص کیلئے سیاست سے لا تعلق رہنا ممکن نہ رہا توشہرت صاحب بھی سیاست میں ایسے آئے کہ جلا وطن بھی ہونا پڑا۔
شہرت صاحب کہتے تھے کہ ان کی اہلیہ فرخندہ بخاری انہیں سیاست میں لائیں ۔ دراصل فرخندہ صاحبہ کے بھائی خواجہ افتخار ایڈووکیٹ سرگرم سیاسی اور ٹریڈ یونین کارکن تھے۔ مرزا ابراہیم کی ریلوے ورکرز یونین کے جنرل سیکریٹری بھی تھے۔ فرخندہ صاحبہ پر بھائی کا اثر تھا۔ مارشل لا کے دوران وہ جمہوری جدوجہد میں بہت سرگرم رہیں ۔ جب انہیں زبردستی طیارے میں ڈال کرجلا وطن کیا گیا تو ظاہر ہے خاندان متاثر ہوا۔ شہرت صاحب اس پر ناخوش تو ہوئے لیکن پھر وہ بھی برطانیہ چلے گئے اور ان کا گھر وہیں آباد ہوگیا۔ جمہوریت کی بحالی پر یہ خاندان وطن واپس آیا۔

شہرت صاحب کا 11 اکتوبر 2001 کو انتقال ہوا اور میانی صاحب قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔

شہرت صاحب کے اردو شعری مجموعے طاقِ ابرو ، دیوارِ گریہ ، اور شبِ آئینہ کے عنوان سے شائع ہوئے ، فارسی کلام کی کوئی خبر نہیں۔ ان کی صاحبزادی نے بھی لاعلمی ظاہر کی۔

کچھہ اشعار:

یا د رہ جاتی ہیں با تیں شہر ت
دن بہر حال گزر جاتے ہیں
شہرت ہے کہ اب وجہ پریشانی احباب
اٹھ جائے گا جس روز تو آئے گا بہت یاد
جو ہے وہ نکلنا چاہتا ہے
ہے ننگ مکان پر مکیں
ہر چند سہارا ہے تیرے پیار کا دل کو
رہتا ہے مگر ایک عجب خوف سا دل کو
کسی کی روح کا بجھتا ہے شعلہ
کسی کی آنکھ میں جلتا ہے کاجل
ہر حال میں اتنے بھی بے بس نہ ہوئے تھے ہم
دلدل بھی نہیں لیکن نکلا بھی نہیں جاتا
کافر ہوں جو حسرت ہو جینے کی مگر شہرت
اس حال میں یاروں کو چھوڑا بھی نہیں جاتا
ہم کوئی نجومی ہیں ، وقت ہی بتائے گا
کون یاد رکھے گا کون بھول جائے گا
ہم بھی رکھتے ہیں زادِ راہِ عدم
اپنا غم ، تیرا غم ، جہان کا غم
کافر ھوں جو حسرت ھو جینے کی مگر شہرت
اس حال میں یاروں کو چھوڑا بھی نہیں جاتا
شُہرت بیانِ غم کےصِلے میں ہُوا نصیب
ایسا جوابِ تلخ کہ نشہ اُتر گیا
ﮐﻮﺋﯽ ﺍﺱ ﺧﻮﺍﺏ ﮐﯽ ﺗﻌﺒﯿﺮ ﺑﺪﻝ ﺩﮮ ﯾﺎﺭﺏ
ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺘﺎ ﮨﻮﺍ ﺍﮎ ﺧﻮﻥ ﮐﺎ ﺩﺭﯾﺎ ﺩﯾﮑﮭﺎ
ﮐﺴﯽ ﮐﯽ ﺭﻭﺡ ﮐﺎ ﺑﺠﮭﺘﺎ ﮨﮯ ﺷﻌﻠﮧ
ﮐﺴﯽ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭ ﻣﯿﮟ ﺟﻠﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﺎﺟﻞ
ﮐﻞ ﭼﮭﭙﺎ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﺧﻮﺩ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﺍﭘﻨﯽ
ﺁﺝ ﺁﺋﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﺠﮭﮯ ﺩﺍﻍ ﺩﮐﮭﺎﻧﮯ ﺗﯿﺮﮮ
ﮨﻢ ﭘﯿﺎﺱ ﮐﮯ ﻣﺎﺭﻭﮞ ﻧﮯ ﻋﺒﺚ ﺁﺱ ﻟﮕﺎﺋﯽ
ﺑﺮﺳﺎ ﮨﻮﺍ ﺑﺎﺩﻝ ﺗﮭﺎ ﺑﺮﺳﺘﺎ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﮐﯿﺴﮯ
ﺳﯿﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺷﻌﻠﮧ ﻧﮧ ﻧﻈﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﯿﮟ ﺑﺮﻕ
ﺷﮩﺮﺕؔ ﺑﮭﻼ ﺩﻝ ﻣﯿﺮﺍ ﺑﮩﻠﺘﺎ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﮐﯿﺴﮯ
ﺩﻝ ﻧﮯ ﮐﺲ ﻣﻨﺰﻝ ﺑﮯ ﻧﺎﻡ ﻣﯿﮟ ﭼﮭﻮﮌﺍ ﺗﮭﺎ ﻣﺠﮭﮯ
ﺭﺍﺕ ﺑﮭﺮ ﺧﻮﺩ ﻣﺮﮮ ﺳﺎﺋﮯ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﮈﮬﻮﻧﮉﺍ ﺗﮭﺎ ﻣﺠﮭﮯ
ﮐﭽﮫ ﺍﯾﺴﺎ ﺩﮬﻮﺍﮞ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮔﮭﭩﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﺳﺎﻧﺴﯿﮟ
ﺍﺱ ﺭﺍﺕ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺁﺅ ﮔﮯ ﺷﺎﯾﺪ ﻧﮧ ﮐﺒﮭﯽ ﯾﺎﺩ
ﻣﻨﺰﻝ ﭘﮧ ﭘﮩﻨﭽﻨﮯ ﮐﯽ ﺍﻣﯿﺪ ﺑﻨﺪﮬﮯ ﮐﯿﺴﮯ
ﭘﺎﺅﮞ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﭨﮭﺘﮯ ﺭﺳﺘﮧ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﺗﺎ
بشکریہ: اسلم ملک
 
To view this content we will need your consent to set third party cookies.
For more detailed information, see our cookies page.
 
چاند ستارے قید ہیں سارے وقت کے بندی خانے میں
لیکن میں آزاد ہوں ساقی, چھوٹے سے پیمانے میں

پہلے تیرا دیوانہ تھا, اب ھے اپنا دیوانہ
پاگل پن ھے ویسا ہی کچھ فرق نہیں دیوانے میں

اپنی بیتی کیسے سنائیں, مد مستی کی باتیں ہیں
میراجیؔ کا جیون بیتا پاس کے اک مے خانے میں

میرا جیؔ
 
لیتا نہیں مرے دلِ آوارہ کی خبر
اب تک وہ جانتا ھے کہ میرے ہی پاس ھے

ھے وہ غرورِ حُسن سے بیگانۂ وفا
ہرچند اس کے پاس دلِ حق شناس ھے

پی جس قدر ملے شب مہتاب میں شراب
اس بلغمی مزاج کو گرمی ہی راس ھے

ہر اک مکان کو ہے مکیں سے شرف اسدؔ
مجنوں جو مر گیا ھے تو جنگل اداس ھے

مُرشد
 

Users who are viewing this thread

Country Watch Latest

Back
Top