Urdu Poetry / Jokes / Literature

ہمارے پاس بھی فسانے بہت ہیں
دل لبھانے کے ترانے بہت ہیں

کہنا چاہوں تو کوئی عُذر نہیں ہے
نہ کہنا چاہوں تو بہانے بہت ہیں

دلوں میں اُترتی یہ باتوں کے تیر
لگانے کہاں ہیں- نشانے بہت ہیں

سبق اس زمانے سے سیکھے جو میں
وہ بے خبروں کو بتانے بہت ہیں

ٹھہر زندگی ذرا دھیرے سے چل
چراغِ مُحبت جلانے بہت ہیں

دُعائیں جو خوشیوں کی کرتا ہوں ہر دم
وہ خوشیوں کے لمحے منانے بہت ہیں

انجانے میں جو لوگ روٹھے ہیں مجھ سے
وہ روٹھے ہوئے دل منانے بہت ہیں

جو دل پہ نہ لیں چھوٹی چھوٹی سی باتیں
تو سفر زندگی کے سہانے بہت ہیں

زندہ دلی گر ہے خوں میں تو دلشَؔاد
لگانے کو یہ دل ٹھکانے بہت ہیں

— دلشاد حُسین
 
آخری کال

چل پڑیں منزلوں کی طرف قافلے آخری کال ہے
منتظر ہیں عزیمت کے سب راستے آخری کال ہے

موت جیسی کسی زندگی کے تسلط میں جکڑے ہو کیوں
تم سے کہتے ہیں زنجیر کے سلسلے آخری کال ہے

ہم چراغوں نے سنگ مل کے لڑنی ہے جنگ آمد صبح تک
چند جو بجھ جائیں تو جل اٹھیں دوسرے آخری کال ہے

جاں بکف ہم نکل آئے آنکھوں میں خوابوں کے جگنو لیے
اب نہ دو سر بچانے کے یہ مشورے آخری کال ہے

منزلیں سرفروشوں کی میراث ہیں بزدلوں کی نہیں
توڑ دو دست آہن سے ظلمت کدے آخری کال ہے

راستے اب لہو کے سمندر سے اٹ بھی اگر جائیں تو
دوستو کم نہ ہو پائیں یہ حوصلے آخری کال ہے

اک اندھیرے میں امید کے دیپ ہاتھوں میں تھامے ہوئے
کہہ رہا ہے مسلسل کوئی آپ سے اخری کال ہے

احمد فرہاد
 
امیرؔ مینائی کی لازوال مکمل غزل

ہوئے نام وَر بے نشاں کیسے کیسے
زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے

تری بانکی چتون نے چُن چُن کے مارے
نکیلے سجیلے جواں کیسے کیسے

نہ گُل ہیں نہ غُنچے نو بُوٹے نہ پتے
ہوئے باغ نذرِ خزاں کیسے کیسے

یہاں درد سے ہاتھ سینے پہ رکھا
وہاں ان کو گزرے گُماں کیسے کیسے

ہزاروں برس کی ہے بُڑھیا یہ دنیا
مگر تاکتی ہے جواں کیسے کیسے

ترے جاں نثاروں کے تیور وہی ہیں
گلے پر ہیں خنجر رواں کیسے کیسے

جوانی کا صدقہ ذرا آنکھ اٹھاؤ
تڑپتے ہیں دیکھو جواں کیسے کیسے

خزاں لُوٹ ہی لے گئی باغ سارا
تڑپتے رہے باغباں کیسے کیسے

امیرؔ اب سخن کی بڑی قدر ہو گی
پھلے پھولیں گے نکتہ داں کیسے کیسے

امیرؔ_مینائی
 
عشق مجھ کو نہیں وحشت ہی سہی
میری وحشت تری شہرت ہی سہی

قطع کیجے نہ تعلق ہم سے
کچھ نہیں ہے تو عداوت ہی سہی

ہم کوئی ترک وفا کرتے ہیں
نہ سہی عشق, مصیبت ہی سہی

ہم بھی تسلیم کی خو ڈالیں گے
بے نیازی تری عادت ہی سہی

یار سے چھیڑ چلی جائے اسدؔ
گر نہیں وصل تو حسرت ہی سہی

مُرشد
 
1735517600975.png
 
Last edited:
  • Like
Reactions: HRK
To view this content we will need your consent to set third party cookies.
For more detailed information, see our cookies page.
 
To view this content we will need your consent to set third party cookies.
For more detailed information, see our cookies page.
 
Urdu and Hindi literature are very different lol. Let alone the poetry.
 
اس گھڑی تجھ سے میں پوچھوں گا، جہاں کیسا ہے؟
جب تیرے حسن پہ تھوڑا سا زوال آ جائے

To view this content we will need your consent to set third party cookies.
For more detailed information, see our cookies page.



To view this content we will need your consent to set third party cookies.
For more detailed information, see our cookies page.
 

Users who are viewing this thread

Pakistan Defence Latest

Latest Posts

Back
Top